اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم لیبیا علی زیدان کو مسلح افراد نے اغوا کیا ہے اور لیبیا کی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اغوا کئے گئے ہیں۔ بعض ذرائع نے مطاابق وزیر اعظم کو ان کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے جبکہ بعض دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہوٹل میں ٹہرے ہوئے تھے اور بعض کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش ہوٹل میں ہی تھی جہاں سے مسلح افراد انہیں اغوا کیا ہے۔ "آپریشن روم آف لیبین ریوالوشنریز" نے وزیر اعظم کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ سعودی چینل "العربیہ" کا کہنا ہے کہ ایک مسلح گروپ نے آج صبح طرابلس کے ایک ہوٹل پر حملہ کرکے انہیں اغوا کیا اور لیبیا کے وزیر قانون "صالح المرقانی" نے وزیر اعظم کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔ لیبیا کی حکومت نے بھی اپنی ویب سائٹ پر ایک مختصر بیان میں لکھا ہے کہ عبوری حکومت کے وزیر اعظم علی زیدان کو اغوا کیا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں سابق باغیوں کے ایک گروہ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اغوا کرکے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے۔ سوال: لیبیا کے وزیر اعظم کو کیوں اغوا کیا گیا؟ لیبیا کے وزیر اعظم کے اغوا کے کئی گھنٹے گذرنے کے باوجود اس سلسلے میں متضاد خبریں آرہی ہیں یہاں تک کہ بعض ذرائع نے کہا ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ مثلا لیبیا کی ایک خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ علی زیدان ادارہ انسداد جرائم کی حراست میں ہیں اور صحیح سلامت ہیں!

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سے قبل سرکاری ذرائع نے کہا تھا کہ انہیں "آپریشن روم آف لیبین ریوالوشنریز" نے اغوا کیا ہے اور بعد میں کہا گیا ہے کہ انہیں "انسداد جرائم کمیٹی" نے اغوا کیا ہے اور اب کہا جارہا ہے کہ ان دونوں اداروں کا تعلق لیبیا کی وزارت دفاع سے ہے! "آپریشن روم آف لیبین ریوالوشنریز" نے کہا ہے کہ اس نے وزیر اعظم ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے باعث ملکی قانون کے مطابق حراست میں لئے گئے ہیں۔ حال ہی میں امریکیوں نے بقول ان کے، القاعدہ سے وابستہ ابو انس اللیبی کو گرفتار کیا تھا جس کو امریکہ نے اپنے لئے بڑی کامیابی قرار دیا تھا اور اب وزیر اعظم کے اغوا کے بعد لیبیا کے ایک سابق "انقلابی" گروپ نے کہا ہے کہ اس نے وزیر اعظم کو اس لئے اغوا کیا ہے کہ انھوں نے ابو انس اللیبی کی گرفتاری میں امریکیوں کے ساتھ تعاون کیا تھا اور امریکیوں کے ساتھ وزیر اعظم کے تعاون کا ثبوت یہ ہے کہ "امریکی وزیر خارجہ "جان کیری نے کہا ہے کہ لیبیا کی حکومت ابو انس اللیبی کی گرفتاری کے لئے ہونے والی کاروائی سے باخبر تھی"۔ ابو انس اللیبی امریکہ میں القاعدہ کے سرکردہ افراد میں سے تھا اس کے باوجود طرابلس میں تعینات بعض یونٹوں اور گروپوں نے کہا ہے کہ علی زیدان کو لیبیا کے اٹارنی جنرل آفس کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے تاہم اٹارنی جنرل کے قریبی ذرائع نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس دفتر نے وزیر اعظم کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ لیبیائی ذرائع نے زور دے کر کہا ہے کہ وزیر اعظم کی گرفتاری یا اغوا کے بارے میں متضاد خبروں کا مفہوم یہ ہے کہ اس ملک میں شدیدترین گروہ بندی اور سیاسی گروپوں کے درمیان شدید محاذ آرائی پائی جاتی ہے۔ ادھر لیبیا کی وزراء کونسل نے علی زیدان کی گرفتاری کے بارے میں بعض خبروں کی اشاعت کے باوجود اعلان کیا ہے کہ اس کونسل کے اندر کسی کو بھی معلوم نہيں ہے کہ وزیر اعظم کا قانونی تحفظ منسوخ کیا گیا یا ان کی گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔اپ ڈیٹ: لیبیا کے وزیر اعظم رہا کئے گئے ہیں لیبیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جمعرات کی صبح اغوا ہوجانے کے چند گھنٹے بعد رہا کردیئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق لیبیائی وزیر خارجہ "محمد عبدالعزیز" نے کہا ہے کہ علی زیدان کو اغوا ہوجانے کے چند ہی گھنٹے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کی رہائی کی کیفیت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیدان کو ایک سابق انقلابی گروپ نے اغوا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭